Tuesday, 28 February 2023

جوانی کی غلطی

 کچھ غلطیاں اتنی مہنگی ہوتی ہیں کہ باقاعدہ پچھتاوا بن جاتی ہیں. جیسے 1999 میں گوگل کے بانی لیری پیج اور سرجی برن اُس وقت کی مشہور ڈیجیٹل کمپنی excite کے مالک جارج بیل کے پاس گوگل فروخت کرنے کیلئے گئے. انہوں نے ایک ملین ڈالر مانگے. جارج نے انکار کر دیا. یہ بچارے ساڑھے سات لاکھ ڈالر تک نیچے آگئے. جارج پھر بھی نہ مانا.


مایوس ہوکر انہوں نے کمپنی خود چلانے کا فیصلہ کیا. آج یہ کچھ کم چار بلین ڈالر کا اثاثہ ہے. آپ جارج کی جگہ ہوتے تو آپ کا پچھتاوا کیا ہوتا.؟ لیکن آپ جارج نہیں ہیں ایک نوجوان ہیں جس کے پاس نہ کچھ بیچنے کیلئے ہے نہ خریدنے کیلئے. تب کل آپ کا پچھتاوا کیا بن سکتا ہے.؟


نوجوانی کی اس عمر میں سب سے بڑی غلطی محبت میں ہوتی ہے. نوجوان ایسے فرد کی تلاش میں ہوتے ہیں جس سے محبت کی جا سکے جبکہ یہ عمر ایسے فرد کی تلاش میں ضائع کرنا غلطی ہے. یہ عمر خود ایسا فرد بن جانے کی محنت کی ہے جس سے محبت کی جا سکے. ایسے مقام کیرئیر کی تعمیر کی ہے جسے دیکھ کر دیکھنے والے خود ہی آپ سے محبت کریں.


آپ نے بھی جارج بیل کی طرح بروقت اسے نہ سمجھا تو کل آپ بھی پچھتائیں گے. وقت کی قیمت خرید آپ کی پہنچ سے بہت دور نکل جائے گی.




Monday, 27 February 2023

اپ نے بدلنا کب محسوس کیا

 ایک وقت آتا ہے کہ آپ بدلنے لگتے ہیں ۔۔۔۔ 


اگر محسوس ہونے لگے کہ غیر ارادی طور پر اندر مضبوطی سی آنے لگی ہے ، ذرا ذرا سی بات پر ٹوٹنے والا دل بڑی بڑی باتوں کو سہنے لگا ہے  ۔ ہر نئی صورت حال پر ہاتھ پاوں ٹھنڈے کرنے کی بجائے ہر بات کو ٹھنڈے دل سے سننے لگے ہیں۔ جن باتوں پہ بےاختیار دل مٹھی میں آجاتا تھا اب  واقعی آپ کی مٹھی میں ہے ۔

 طبیعت میں جذباتیت کم اور ٹھہراو بڑھنے لگا ہے ۔ آپ ہر منفی بات کو نظر انداز کرکے مثبت وائبز کی طرف لپکنے لگے ہیں ، چھوڑ کر جانے والوں کو خاموشی سے  الوداع اور آنے والوں کا مسکرا کر استقبال کر رہے ہیں ، آپ کے قدموں کی ڈگمگاہٹ اب پختگی میں بدل رہی ہے ، آپ پہلی بار اتنے حقیقت پسند ہونے لگے ہیں کہ پوری طرح جاگ گئے ہیں ۔ خوش فہمیاں پالنا قدرے کم کردی ہیں۔۔۔۔ تو


تو جان لیجیے آپ بالکل  وہ نہیں رہے ، جو پہلے کبھی  تھے ۔ آپ ایک کامیاب اور مضبوط انسان بننے کا سفر تقریباً مکمل کرنے کو ہیں _______ بس مستقل مزاجی سے قدم جما کر رکھیں۔۔۔۔  اور دنیا کو حیران کردیں۔  

Shahzad Shafiq Hijama 

03122001310

03212773576

03317863313


معراج النبی اور حجامہ

 *🌴درسِ حدیث🌴*

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ

 صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :

مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلَأٍ

 مِنَ الْمَلَائِكَةِ، إِلَّا كُلُّهُمْ يَقُولُ لِي:

 عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ بِالْحِجَامَةِ ".

 *نبی کریمﷺکافرمان*

جس رات مجھے سیر کرائی گئی

(معراج ہوئی)میں فرشتوں کی

 جس جماعت کے پاس سے گزرا

 وہ سب مجھے یہی کہتے رہے:

 حضرت محمد ( ﷺ ) ! سینگی

 لگوایا کریں ۔‘‘

*عنوان*

معراج کی رات فرشتوں نے ہمارے

آقاﷺکو حِجامہ کروانے کا 

مشورہ دیا

*حوالہ*:سُنَنِ ابنِ ماجہ.

حدیث نمبر:3477

🌙29رجب المرجب1444ہجری

بمطابق21فروری2023بروز منگل

Shahzad shafiq hijama centre 

0321 2773576 0312 2001310 03317863313 

بندہ اپنے خدا کی نہیں مانتا

 ایک عورت نے مجھے کہا

سر  آپ میرے شوہر سے تو کئی حصے بہتر ہیں میری بے ساختہ ہنسی چھوٹ گئی میں نے کہا  بھلا میں آپ کے شوہر سے بہتر کیسے ہو سکتا ہوں کہ اس سے آپ لڑائی بھی کرو تو اپکا حق ہے اور مجھ سے بات بھی کرو تو اک دوسرے پر کوئی بھی تو حق نہیں  بھلا میں اس سے بہتر کیسے ہوا۔۔۔؟

پھر بھی آپ عورت کی نفسیات کو سمجھتے ہو میں نے کہا میری سمجھداری کا پتا تو اس دن چلے گا جس دن میں اپنی بیوی کی نفسیات کو سمجھوں گا پرائی عورت کی نفسیات تو ہر مرد ہی سمجھتا ہے،

وہ کہتی سر آپ بلکل ٹھیک کہتے ہیں لیکن سر پھر مجھے بتائیں میں ایسا کیا کروں جس سے میرا شوہر میری ہر بات مانے میری پھر ہنسی چھوٹ گئی میں نے کہا او ہر بات تو بندہ اپنے خدا کی بھی نہیں مانتا اور آپ بندی ہو کے خدا جیسی چاہت رکھ رہی ہیں کوئی ہوش کے ناخن لیں اگر آپ چاہتی ہیں کہ وہ اپکا کہنا مانے تو سب سے پہلے آپ اپنے ذھن سے یہ فتور نکال دیں کہ وہ اپکی ہر بات مانے کیونکہ اسکی ہر بات ماننا آپ پر فرض ہے اس پر نہیں پھر بھی اگر وہ اپکی کوئی بات مان لیتا ہے تو اسکو آپ اسکا احسان سمجھیں اور اسکا شکر ادا کریں،

باقی اگر پھر بھی اپکی یہی ضد ہے کہ وہ اپکی ہر بات مانے تو پہلے خود کو اس کیلئے نمونہ بناؤ ثابت کرو کہ آپ ایک فرمابردار عورت ہیں اگر پھر بھی وہ آپکو ذلیل کرے تو پھر بھی آپ اسکا شکوہ نہیں کر سکتی ہاں البتہ آپ اپنا راستہ بدل سکتی ہیں جسکی اجازت آپکو آپ کا دین بھی دیتا ہے اور سماج بھی دیتا ہے وہ کہتی معذرت چاہتی ہوں سر میں نے کبھی اس طرح سے نہیں سوچا تھا اب انشاء اللّه میں اپکی باتوں پر عمل کر کے دیکھوں گی میں نے کہا اب پھر آپ غلطی کر رہی ہیں آپ نے سب اسے آزمانے کیلئے نہیں کرنا بلکہ وہ اپکا شوہر ہے پورے اخلاص کہ ساتھ اسکی فرمابرداری کرنی ہے انشاء اللّه اپکی خلوص نیت سے کیا گیا ہر عمل قبول ہو گا اور اللّه اسکا دل بھی ضرور نرم کر دے گا۔۔۔!

 شہزاد شفیق حجامہ سینئر 

0321 2773576 0312 2001310 03317863313 

نظریہ قانون مفرد اعضا

نظریہ قانون مفرد اعضا کے تحت. اعصابی شوگر ہوتی جو سردی جسم میں بڑھنے سے ہو. اور غدی ہوتی جو گرمی جسم میں بڑھنے سے ہو. اعصابی شوگر کو اصل شوگر کہتے

غدی کو جھوٹی. یہ لمبی بحث ہےاور

شہزاد شفیق حجامہ سینئر 

0321 2773576 0312 2001310 

ابتدائی شوگر

 بار بار پیشاب ، نقاہت اور چکر آنا ذیابطیس کی عام علامات ہیں

 اس کے علاوہ

نیند کی کمی

جسم پر خارش 

بہت کم یا بہت زیادہ بھوک

بلاوجہ وزن کم ہونے

بغلوں، گردن اور جسم کے حساس مقامات پر سیاہی

خواتین میں اندام نہانی میں خشکی

مردوں میں مردانہ کمزوری 

مرد و خواتین میں ازدواجی تعلقات قائم کرنے میں عدم دلچسپی 


ذیابطیس کی وہ علامات ہیں جن کے متعلق اکثر افراد کو علم نہیں ہوتا


اپنا بلڈ شوگر لیول ہمیشہ برقرار رکھیں


میٹھا چھوڑ دیں، خوراک میں تیل اور اناج انتہائی کم کر دیں 

زیادہ پانی پئیں

روزانہ تیز چہل قدمی کریں

حکیم شہزاد شفیق سے حجامہ اور یونانی طریقہ علاج سے علاج کروائیں 

0321 2773576 

ٹیم آپ کو تفصیلات فراہم کر دے گی

سپیس دینا اور عزت کرنا

 دوسروں کو سپیس دینے کا مطلب کیا ہے؟

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

آپ اِس وقت کہاں اور کس پوزیشن میں، کس رُخ پر بیٹھے ہیں؟ گردن گھما کر اپنے دائیں، بائیں اور پھر سامنے کن اشیاء کو مکمل طور دیکھ سکتے ہیں؟ کن اشیاء کا صرف 50 فیصد یا 10 فیصد آپ کے احاطہِ نگاہ میں آ رہا؟ کوئی شے اگر پوری نہیں دیکھ سکتے، مگر دیکھنا چاہتے ہیں، تو آپ کیا کریں گے؟


ظاہر ہے، آپ کرسی پر بیٹھے بیٹھے کسی ایک طرف جھک جائیں گے، گردن لمبی کریں گے، یا اُٹھ کر اُس خاص چیز تک بدنی اعتبار سے ایپروچ کریں گے، یا کسی دوسرے شخص کو آواز دے کر مدد طلب کریں گے ۔۔۔ وغیرہ۔


اگر آپ کسی چیز کا سو فیصد نہیں دیکھ پا رہے بلکہ 50 یا 30 فیصد دیکھ سکتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے آپ ایک خاص زاویے پر بیٹھے ہیں۔ اِسے ہم اَینگولر پوزیشن angular position کہتے ہیں۔ جب کوئی چیز، منظر، معاملہ صرف اَینگولر پوزیشن سے دیکھا جا سکتا ہو، نہ کہ مکمّل طور، تو جس زاویے سے آپ وہ چیز دیکھتے ہیں اُسے آپ کا پرسپیکٹِو perspective کہا جائے گا۔ انگریزی زبان میں اِس لفظ کے لیے درج ذیل مترادف الفاظ مستعمل ہیں:


point of view, viewpoint, outlook, position, standpoint, view, opinion, stand, stance, angle, slant, approach, frame of mind, frame of reference


یہ سب الفاظ اَینگولر پوزیشن کا اظہار یا اس کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اور دیکھا جائے تواَینگولر پوزیشن کا ایک مزے دار سا مطلب ہے معذوری۔


ہم میں سے ہر شخص اِس دنیا میں بہت حد تک معذور ہے، اور اس معذوری کی ہزاروں اقسام ہیں۔ مثلاً دیکھنے، سننے، سوچنے، کھانے پینے کی معذوری۔ ہم یہ معذوری ہر روز، ہر آن، کسی دوسرے شخص یا شے کی مدد سے پوری کیا کرتے ہیں۔ مثلاً ایک چھوٹا بچہ خود اپنا فِیڈر نہیں بنا سکتا۔ مثلاً ہم اخبار پڑھے بِنا یا ٹیلی ویژن اسکرین پر نیوز بلیٹن سنے بنا حالاتِ حاضرہ سے متعلق تازہ خبریں حاصل نہیں کر سکتے ۔۔۔ وغیرہ۔


اب جیسے ہم چھ فٹ فاصلے پر رکھی ایک چیز کی پُشت نہیں دیکھ سکتے، اِسی طرح بےشمار معاملات یا موضوعات ایسے ہیں جن سے متعلق ہم اپنے حواس، دل اور دماغ کی مدد سے بہت کم جان پاتے ہیں۔ چنانچہ کسی موضوع پر اپنی جان کاری بڑھانے اور مکمل کرنے کو ہم دوسروں کی رائے یا اُن کے پرسپیکٹو کا سہارا لیتے ہیں۔


یعنی سامنے پڑی ایک چیز کے دائیں طرف یا اُس کی پُشت پر بیٹھے شخص سے ہم دریافت کریں گے کہ یہ چیز تمہیں کیسی دِکھتی ہے؟ کیا پُشت کی جانب بھی اِس کی موٹائی، لمبائی، چوڑائی، اور رنگت ویسی ہی ہے جیسی ہم اپنی طرف والی سمت سے اِسے دیکھتے ہیں، یا کسی قدر مختلف ہے؟


 جب ایسا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ ہم کسی بھی موضوع پر حتمیت اور قطعیت کے ساتھ بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔ ہم  معذور ہیں،ہم محتاج ہیں۔اور ہماری احتیاج ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم  دوسروں کی مدد طلب کرنے کو اچھا سلیقہ اختیار کریں۔


بات کرنے، رائے کا اظہار کرنے میں تہذیب کا سفر یہیں سے آغاز ہوتا ہے۔ یعنی اپنی معذوری کو جان لینے، اپنے نامکمل پن کو پہچان لینے سے۔ 


کوئی بھی بڑا دانشور صرف اس لیے بڑا ہوتا ہے کہ وہ اپنی معذوری سے خوب واقف ہوتا ہے۔ گویا سخت لب و لہجہ اپنا کر اَنا، ضد، یا ہٹ دھرمی والا رویہ اختیار کرنا اپنے نامکمل پن کو تسلیم کرنے سے انکاری ہو جانا ہے۔ اپنی رائے کا اظہار کرتے وقت دوسرے شخص کو space دینے، اس کے لیے گنجائش رکھ چھوڑنے کا مطلب ہے اپنی معذوری کا اعتراف کرنا۔


یہ گنجائش یا سپیس کیسے دی جاتی ہے؟ 

ذیل میں درج الفاظ کو ادا کرنے کی باقاعدہ مشق کرنی چاہئیے تا کہ ایسے polite phrases ہماری گفتگو کا مستقل حصہ بن جائیں، اور  ہماری تہذیب کا ثبوت ٹھہریں۔


ـــ میرا تاثر / احساس یہ ہے کہ ۔۔۔


ـــ مجھے آپ سے جزوی اتفاق ہے ۔۔۔


ـــ میری رائے میں اس معاملے کو اِس طور دیکھنا زیادہ اہم ہے کہ ۔۔۔


ـــ کیا ہم یہ سارا منظر اس طور بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ۔۔۔


ـــ اگر آپ تھوڑی سپیس دیں تو میں یہ کہنا چاہوں گا/گی کہ ۔۔۔


ـــ میں ذرا مختلف بات کروں گا، شاید آپ کو اس زاویے سے دیکھنا بھی اچھا لگے  ۔۔۔


ـــ اس موضوع پر میرا احساس قدرے مختلف ہے ۔۔۔


ـــ آپ نے خوب بات کی۔اب اگر آپ اجازت دیں تو کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔۔۔


ـــ جو کچھ آپ نے کہا، اس کا اسکوپ پوری طرح موجود ہے، تاہم اس کے بالکل برعکس بھی ایک رائے ہو سکتی ہے، مثلاً ۔۔۔


ـــ بہ صد ادب مجھے آپ کی بات سے  اختلاف ہے ۔۔۔


ـــ آپ کی بات درست ہو گی لیکن کیا اس سے مختلف بھی سوچا جا سکتا ہے؟ جیسے  ۔۔۔


ـــ آپ کی بیشتر باتوں سے اتفاق ہے، البتہ چند پہلو ایسے ہیں جن پر میں اپنی رائے دینا چاہوں گا/گی ۔۔۔


یہ محض الفاظ نہیں ہیں۔ یہ اپنے اندر ایک پوری تہذیب ہے۔ ایسے الفاظ ادا کرنے کا مطلب ہے :


آپ میں دوسروں کو برداشت کرنے کی سکت ہے۔ 

آپ لفظ تحمّل کے رول ماڈل ہیں۔ 

آپ کے نزدیک اپنی بات منوانے سے زیادہ اہم سامنے موجود انسان کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا ہے۔ 

آپ اس دنیا میں جگہ بہ جگہ اپنی انا کے پرچم گاڑنے نہیں آئے۔ 

آپ نفرت کے نہیں، محبت کے سفیر ہیں۔ 

آپ 'جیو، اور جینے دو' پر ایمان رکھتے ہیں۔


محض گفتگو کے آداب رہے ایک طرف۔ اگر ٹھوس نوعیت کے معاملات درپیش ہوں تب؟


کیا آپ جانتے ہیں رسالتمآبؐ  نے معاملات میں ایسی وسعت کا مظاہرہ کرنے والے کے لیے کیا incentive اناؤنس کر رکھا ہے؟ آپ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم  نے فرمایا:


'میں ایسے شخص کے لیے جنّت میں ایک محل دئیے جانے کا وعدہ کرتا ہوں جو جھگڑا ختم کرنے کو اپنے جائز حق سے دستبردار ہو جائے۔'


یہ زندگی ختم ہو جائے گی، رویّے باقی رہ جائیں گے۔ رویّوں کی حفاظت کریں۔ایسا شخص اِس دنیا میں تو محبتیں کمائے گا ہی، وہ وقت زیادہ دور نہیں جب یہ ایبسٹریکٹ چیز ہمیں ٹھوس انعام کی صورت بھی لوٹا دی جائے گی ــــــــــ کروڑہا برسوں پر محیط ایک غیر مختتم galaxial life میں۔

شہزاد شفیق حجامہ 

0321 2773576 0312 2001310 03317863313