Monday, 20 February 2023

سرعت انزال شرمندگی

 ٹائمنگ کے لئے شاہی نسخہ 

کیا آپ جلدی فارغ ہو جاتے ہیں ؟ آپ مایوس مت ہوں.جلدی فارغ ہونے والی بیماری کو سرعت انزال کہا جاتا ہے جو آج نسخہ لکھ رہا ہوں یہ نسخہ سرعت انزال میں فائدہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ جریان ، احتلام ، کمر درد ، سانس کا پھول جانا ، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا وغیرہ بیماریوں میں بھی انتہائی مفید ہے بہر حال جلدی فارغ ہونا یعنی سرعت انزال وہ بیماری ہے جو مرد کو وقت خاص پر بیوی کے سامنے شرمندہ کر دیتی ہے مرد کسی کام کا نہیں رہتا بعض اوقات تو دخول تک نہیں ہوتا اگر دخول ہو بھی جاۓ تو  ہی سیکنڈ میں فارغ ہو جاتا ہے  دوسری بار شہوت ہی نہیں آتی جس کی وجہ نیند کا غلبہ رہتا ہے سونے کے بعد اٹھنے کا دل نہیں کرتا سستی رہتی ہے ٹانگوں ، پنڈلیوں ، کمر درد اور گھٹنوں میں درد رہتا ہے کوئی کام کرنے کو دل نہیں چاہتا ٹینشن میں مبتلا رہتا ہے جس کی وجہ سے اور بھی بیماریاں مول لے لیتی ہیں اگر مرد عورت کو ایک سال ہاتھ نہ لگاۓ تو صبر کر لیتی ہے اور اگر بیوی کا ذہہن مباشرت کے بنا لیا اور بیوی کی تسلی نہ ہوئی چونکہ اس وقت عورت کے فل جذبات ہوتے ہیں ان جذبات کو ٹھنڈا نہ کیا جاۓ تو عورت غیر محرم کی طرف متوجہ ہونا ہو جاتی ہے اور بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو کر بات طلاق تک پہنچ جاتی لوگوں کے طعنے سننے پڑتے ہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مرد اس وقت خود کشی کرنے تک پہنچ جاتا ہے اس دوائی سے مرد اپنی زندگی خوشحال گزار سکتا ہے انس دواخانہ کے سنہری نسخہ جات 

   نسخه_ھوالشافی

سفید موصلی  50 گرام

سیاہ موصلی 50 گرام 

عقرقرحا موٹا اصلی  50 گرام

شقاقل مصری 50گرام 

ستاور 50 گرام 

کباب چینی 50 گرام

تخم میتھی 50 گرام 

تخم کلونجی 50گرام 

تخم حرمل 50گرام

چاسکو 50 گرام 

دارچینی 50 گرام 

موچرس 50گرام 

بہمن سرخ 50 گرام 

بہمن سفید 50 گرام 

شہد خالص حسب ضرورت 


باقی سب نیچے تصویر میں دیکھیں ۔


تمام اشیاء کو اچھی طرح صاف کر لیں مٹی پتھر لکڑی بلکل نہیں ہوں اور گرینڈ کرکے محفوظ رکھیں کسی شیشے کے جار میں ڈال کر

طریقہ_استعمال

صبح ناشتے کے ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بعد

شام کھانے کے ایک سے ڈیڈھ گھنٹے بعد نیم گرم دودھ گائے کے ساتھ استعمال کریں تمام ادویات کا خالص ہونا شرط ہے۔ 

اس نسخے سے مردانہ کمزوری کا کامل علاج ہے .ایک بار ضرور آزمائیں بہترین رزلٹ دیتا ہے. پر اعتماد نسخہ ہے.

Shahzad shafiq hijama centre 

@ 

0321 2773576 0312 2001310 03317863313 

Wednesday, 1 February 2023

انسانی جسم اور گلینڈز طبی موازانہ

 انسانی جسم میں سینکڑوں گلینڈز اور اس کے افرازات کا طبی اور ایلوپتھک موازنہ



طب اور ایلوپیتھک کی راہیں اس وقت مکمل جدا ہوئیں جب ایلوپیتھک نے طبعیات کی بجائے کیمسٹری سے طب جوڑنے کی راہ اپنالی۔۔۔

آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ طب میں تشخیص و معالجہ کی بنیاد اب بھی طبعیات پر قائم ہے جب کہ ایلوپیتھی جسم کی امراض کی تشخیص اور پھر علاج دونوں میں کیمسٹری پر چل رہا ہے۔۔


  انسانی جسم ایک نہیں سینکڑوں پیچیدہ نظامات اور خودکار طبعی امور سرانجام دینے والے مشین ہے۔۔۔

طب اب بھی انسانی جسم کے ارادی اور غیر ارادی افعال کو سمجھنے اور اسے اعتدال میں رکھنے کے لیے طبعیات کے اصولوں پر عمل پیرا ہے۔


اب ان دونوں طریقہ علاج کی دنیا میں رواج اور طریقہ کار کا جائزہ لینے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انسان کی صحت کے حوالے سے زیادہ محفوظ اور دیرپا کونسا طریقہ سودمند یے

حالیہ چند عشروں میں مختلف پیچیدہ امراض کے سلسلے میں کیمیائی بنیادوں پر علاج تقریبا غیر محفوظ بلکہ خطرناک حد تک مضر تصور کیا گیا ہے۔

جدید اور ترقی یافتہ دنیا ایک بار پھر نیچرو،ہربل،ڈائٹیشن اور الٹرنیٹیوز کے مختلف ناموں پر علاج کی طبعیاتی۔۔۔یعنی طبعی اور فطری علاج معالجے کی طرف آرہی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جسم کو اگر کیمکلی طور ڈیل کرنے کا جاری رکھا جائے تو 

تشخیصی طور پر نہ جانے مزید کتنے ہارمونز پیدا یا جانچنا پڑھیں گے۔۔۔اور پتہ نہیں کتنے تھرموسٹیٹ نکالنے پڑھیں گے۔۔اور پھر ان خود کار طبعی افعال کے لیے نہ جانے کتنے کنٹرول ہارمونز کی نشاندہی کرنی ہوگی۔۔۔

پیشاب کے لیے الگ۔۔براز کے لیے الگ۔۔نیند کے لیے الگ۔۔۔جذبات کے لیے الگ۔۔۔توازن کے لیے الگ۔۔۔موسم کی شدت محسوس کرنے کے لیے الگ۔۔شوگر ۔۔بلڈ پریشر۔۔۔بھوک۔۔۔پیاس۔۔۔غصہ۔۔ماہواری۔۔۔وغیرہ وغیرہ سینکڑوں خود کار نظامات کے لیے بلکہ جتنی بھی غدد ہیں۔۔۔سب ہارمونز پروڈیوس کرتے ہیں.  اور ان سب کے ہامونز کا کیمکلی مطالعہ اور فعلی اثرات جانچنے کا لامتناہی سلسلہ چلتا رہے گا۔۔

یہ تشخیص تو اپنی جگہ جاری رہے گی لیکن اب اس بنیاد پر علاج کا بھی تھوڑا سا جائزہ لیں۔

کہا گیا کہ 

فیمیل انفرٹلٹی اور ام میچور اووریز یا مینسز ایر ریگولیرٹی۔۔ایمونوریا یا ڈسمینوریا ۔۔۔ہارمنز FSH,LH,وغیرہ کے دماغ کے اندر غدد کی ڈسٹرببنس  کا نتیجہ ہے۔۔

چلو مان لیا۔۔۔اس سے کون انکار کرسکتا ہے؟؟ کہ یہ جدید کیمکل اور پیتھالوجکل ریسرچ ہے اور اس میں ہمارے پاس وہ آنکھیں نہیں جس سے ہم یہ دعوی پرکھ سکے۔۔

چل نکلیں ہارمونک علاج کی طرف۔۔۔آپ سب کا تعلق اس فیلڈ سے ہے ۔۔آپ بتا دیں کہ فیمیل کی انفرٹیلٹی اور بانجھ پن کے مختلف مسائل میں باوجود ایک سپیشل ڈسپلن اور مخصوص فیلڈ کی سپیشلٹی کے ۔۔ایلوپیتھک علاج ان ہارمونز کو درست کرنے میں کتنا کامیاب رہا ؟؟؟نہ ہونے کے برابر۔۔۔بلکہ تمام گائناکالوجیسٹ یارمونک میڈیسن سے پہلے انٹی باڈیز لکھنے پر مجبور ہیں۔۔۔پھر بھی نتیجہ صفر سے تھوڑا بہتر۔۔۔

دراصل ہامونک سسٹم کے طریقہ علاج کے متعارف ہونے کے چند سال بعد اس کی مابعد خطرناک ترین نقصانات سامنے آکر اسے تبدیل کرنا یا مکمل چوڑنا بھی پڑرہا ہے۔۔

اس سلسلے میں ہائپر اور ہائپو تھائرائیڈ کے لیے تھائی راکیسن اور اٹامک انرجی میڈیسن اور ریڈی ایٹری علاج کے نقصانات ہمارے سامنے ہیں۔۔

صرف ہائپر تھائی رائڈزم کی مریض اٹامک کیمکل کے دو قطرے دل اور جوڑوں کے امراض ۔۔۔آسٹرو آرتھرائٹس جیسے موذی امراض کے شکار ہوگئے۔۔جس سے پہلے والا مرض زیادہ بہتر تصور کیا جاریا ہے۔۔ہائپر تھایرایڈ سے شاید اتنی جلدی نہ مرتے۔۔۔اس لیے فزیشن خضرات اب زیادہ سے زیادہ نیومرکزول پر ہی مرض کو قابو رکھتے ہیں۔


میرے طبیب بھائیو!

اوہر جو تین چار ہامونک امراض کا میں نےذکر کیا۔۔۔آپ ان میں طبی علاج کی افادیت سے واقف ہیں۔۔۔جس کے جسم پر کسی قسم کے مابعد اثرات نہیں ہوتے۔۔

طب ان ہارمونک امراض کو غدد ناقلہ کے امراض سمجھتا ہے۔۔۔اور غدد کے افعال کی تیزی۔۔۔ہائیر یعنی افرازات کی زیادتی  اور سستی ۔۔ہائپو یعنی افرازات کی کمی۔۔۔کا علاج بہت بہترین۔۔۔کم خرچ۔۔آسان اور فطری اور طبعی طور پر کیا جا رہا ہے۔۔۔


طبیب کو  اپنے فن میں مہارت تامہ کے حصول کے لئے مکمل تعلیم و تربیت  اس نہج پر کرنا ہوگا جس سے واقعتا لگے کہ طبیب واقعی حق وراثت ادا کر رہا ہے طب کے میدان میں کی جانی والی تمام تحقیقات اور علوم کو حاصل کر کے خلق خدا کی خدمت میں بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے 

 شہزاد شفیق حجامہ سینئر

0321 2773576 0312 2001310 03317863313 

حجامہ فصد


#فصد 

#phlebotomy 

#veinsuction


سوال: اخلاط کا فصد کیساتھ کیا تعلق  ہیں ؟ 

جواب: اس سوال کے دو حصے ہیں  ۔

1)

سب سے پہلے ہم خلط کو جاننے کی ہوشش کرتے ہیں کہ خلط کیا چیز ہے

2) اور پھر فصد کے ساتھ خلط کا کیا تعلق ہے جانے گے ۔ 



 اور  خلط کی جمع اخلاط ہے

 جسکے معنی بہنے والا سیال مادہ ہے جدید میڈیکل سائنس میں اسے 

Elementry Liquid Tissues

سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ 

طب آریورویدک میں اسے   دوش . 

طب  مفرداعضاء میں حیاتیاتی مادے

 اور انگریزی طب میں ایلی مینٹری لیکوئیڈ ٹشوز کہتے ہیں .

یا 

خلط کی دوسری تعریف 

 (ملی ہوئی چیز کے ہیں) 

 اور خلط کا اصطلاحی معنی مرکبات خون کے ہیں جن میں خون کے ہم مزاج عناصر باہم مخلوط ہوتے ہیں.


اخلاط خلط کی جمع ہے  

اخلاط چند ایسے ابتدائی حیاتیاتی مادے ہیں جو ہم مزاج عناصر کی ابتدائی ترکیب سے پیدا ہوتے ہیں یعنی جب عناصر جسم انسان میں غذاء کی صورت میں تحلیل ہوتے ہیں تو اخلاط بن جاتے ہیں . انہی ابتدائی حیاتیاتی مادوں سے حیوانی ذرات ( Cells) کروموسومز . جینز . ڈی این اے . آر این اے . نیوکلیوٹائیڈز . ہر قسم کے جراثیم اور وائرس پیدا ہوتے ہیں . 

انسان جو غذاء کھاتا ہے وہ عناصر سے مرکب ہوتی ہے یہ غذاء ہضم ہوکر جب اپنی صورت نوعیہ تبدیل کر لیتی ہے تو کیموس اور کیلوس کی صورت کے بعد اخلاط کی شکل اختیار کر لیتی ہے گویا اخلاط عناصر کی متبدل صورت ہیں جو غذاء کے استحالہ وہضم کے بعد چند ایسے ابتدائی حیوانی مادوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں جنہیں طب یونانی میں اخلاط .

طب آریورویدک میں  دوش . 

طب میں  تر سیال مادہ یا حیاتیاتی مادے

 اور انگریزی طب میں ایلی مینٹری لیکوئیڈ ٹشوز کہتے ہیں . 

غذاء سے جو خون بنتا ہے وہ عناصر سے مرکب ہوتا ہے . خون میں ان عناصر کے چار ارکان اور ان کی چار کیفیات کے تحت ہم مزاج عناصر کے چار ہی اقسام کے اخلاط ترکیب پاتے ہیں جنہیں

 1- صفراء

 2- ریح

 3- بلغم 

4 - سوداء کہتے ہیں . خون انہی چار اخلاط سے مرکب ہے جس کا مزاج گرم تر ہے .  ( تعریف  خلط بمطابق طب یونانی )

طب یونانی میں خلط ایک تر اور سیال جسم کو کہتے ہیں جو غذاء کے ہضم و استحالہ کے بعد سب سے پہلے تیار ہوتا ہے . 

( نوٹ) : :  طب یونانی کی اس تعریف کے مطابق جسم انسان میں صرف خون ہی ایک تر اور سیال جسم ہے جو غذاء کے پہلے استحالہ سے پیدا ہوتا ہے جس سے سارے جسم کو غذاء ملتی ہے . چنانچہ شیخ الرئیس بوعلی سینا بھی کلیات قانون میں لکھتے ہیں کہ اصل غاذی خلط صرف خون ہی ہے جس سے سارے جسم کو غذاء ملتی ہے . . ڈاکٹر ہیلی برٹن بھی خون کی تعریف میں لکھتے ہیں کہ خون ایک ایسا تر اور سیال واسطہ ( Fluid Medium ) ہے جس کے ذریعہ جسم کے تمام انسجہ ( Tissues) براہ راست یا بالواسطہ تغذیہ کرتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خون میں ہر قسم کے انسجہ کے مادے پائے جاتے ہیں جن سے جسم انسان کا تغذیہ ہوتا ہے . 

( کلیات علم الابدان صفحہ 98 تا آخر باب) 


فصد کا اخلاط کے ساتھ کیا تعلق ہے ۔  یہ اس سوال کا دوسرا حصہ ہیں  اس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہیں ۔


جسم میں 

اخلاط کے عدم اعتدال کی وجہ بیماریوں اور علامات کی ظہور ہوتا ہے 

جب تمام اخلاط اپنے حد بڑھ جاتے ہیں  اور ان تمام اخلاط کو بیک وقت نکالنا مقصود ہو تو فصد کروایا جاتا ہے  ۔ اس لئے

فصد کو   استفراغ کلی بھی کہا جاتا ہے، جو (بلا تخصیص) کثرت اخلاط کو یعنی اخلاط کی زیادتی کو اس تناسب سے دور کرتا ہے جس تناسب سے یہ عروق( رگوں )  میں پائی جاتی ہے۔ 

 اگرچہ اس کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے کہ فصد سے جب بدن کا خون خارج کیا جاتاہے تو خواہ کتنا ہی خون نکالا جائے، اسی تناسب سے سارے بدن کے خون میں کمی  آجاتی ہے۔

 اس طریقے سے فصد کا اثر کم و بیش سارے اخلاط اور سارے بدن پر پڑتا ہے۔ دوسری جانب اگر   جسم میں کسی ایک خلط کا اضافہ ہو جائے تو اسی خلط زائدہ کو نکالنے کے لئے اسہال یا قے کروایا جاتا ہے  یا ادویہ و اغذیہ  استعمال کروائی جاتی ہے۔

حجامہ اور فصد


#فصد

#venesection

#phlebotomy


*حجامہ اور فصد یا  بلڈ ڈونیشن میں کیا  فرق  ہے*

*فصد یا بلڈ ڈونیشن*  : 


بلڈ ڈونیشن یا فصد میں  سے جو خون نکلتا ھے 


اس خون کا تعلق دراصل ھمارے وریدوں اور شریانوں سے ھے،

بنیادی طور اسی خون پر ھماری زندگی کا دارو مدار ھے  دل اس کا پمپنگ مشین ھے جو که اندرونی تمام اعضاء انسانی( آرگنز ), کو خون سرکولیٹ اور سپلائی کر رھا ھوتا ھے  .


انسان کا خون بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک حصہ مائع اور دوسرا حصہ خلیات یا خون کے ذرات بناتے ہیں۔ مائع کو پلازما کہا جاتا ہے جس میں تقریبا ً 90 فیصد پانی اور 10 فیصد خون کو جمانے والے پروٹین اور دیگر مادے ہوتے ہیں۔

خون میں تین طرح کے خلیات پائے جاتے ہیں۔


سرخ ذرات Red blood cells

سفید ذرات White blood cells

پلیٹیلیٹس Platelets


خون کے سرخ خلیوں میں ایک خاص قسم کا مادہ ّ ہیموگلوبن ہوتا ہے جو جسم کے مختلف حصوں میں آکسیجن کی ترسیل کا کام کرتا ہے۔ یہ مادہ آئرن(Haem) اور پروٹین(Globin) سے مل کر بنتا ہے۔خون میں ہیموگلوبن کی کمی ہی دراصل Anaemia یا خون کی کمی کہلاتی ہے۔خون کے سرخ ذرات کا دورانیہ حیات ایک سو بیس دن ہے۔


خون کے سفید ذرات پانچ اقسام کے ہوتے ہیں جن کا بنیادی کام بیماریوں کے خلاف تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ان میں سے بعض ذرات اینٹی باڈیز بناتے ہیں، بّعض ذرات بیکٹیریا، دوسرے خوردوبینی جانداروں اور ضعیف خلیوں کو نگل لیتے ہیں، بعض ذرات وائرس اور طفیلیوں(parasites) کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں اور بعض ذرات الرجی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خون میں سفید خلیوں کی کمی مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہے اور جسم مختلف اقسام کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایڈز کے مرض میں ایچ آئی وی وائرس جسم کے سفید خلیوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور ان کی شدید کمی کا باعث بنتا ہے۔ اس طرح جسم کی قوتِ مدافعت تقریبا’’ختم ہو جاتی ہے اور جسم بیماریوں کا مرقع بن جاتا ہے۔ خون کے سفید خلیوں کا دورانیہ حیات خون میں چند گھنٹے یا ایک دن ہے۔ بعض ذرات ٹشوز میں داخل ہو جاتے ہیں اور وہاں سال بھر زندہ رہتے ہیں۔


چوٹ لگنے کی صورت میں جو خلئے خون کو روکنے کا باعث بنتے ہیں انہیں plateletsکہا جاتا ہے۔ خون میں ان ذرات کی کمی بہت سی پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہے مثلا’’ مسوڑھوں سے خون آنا، جسم کے مختلف حصوں سے خود بخود خون کا بہنا وغیرہ۔ ان ذرات کا دورانیہ حیات پانچ سے دس دن ہے۔


اپنا دورانیہ حیات مکمل کرنے کے بعد خون کے ذرات Reticuloendothelial System میں داخل ہو جاتے ہیں جو جگر، تلی(جسے سرخ خلیوں کا قبرستان بھی کہا جاتا ہے) اور ہڈیوں کے گودے(Bone Marrow) پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ سسٹم ان خلیات کی توڑ پھوڑ کے بعد ان سے حاصل ہونے والے بعض مادوں کو دوبارہ استعمال میں لے آتا ہے اور بعض کو جسم سے خارج کر دیتا ہے۔


*دم حجامہ* : 

یه وه اخلاط فاسدہ ٹاکسنز یا  ڈیڈ سلز یعنی خون ھے. جو لمفیٹک چینل کے ذریعے مائکرو بلڈ سرکولیشن (جو کہ مجموعہ ھے  کیپیلریز اور بلڈ ویسلز کا)   میں جمع ھوا کرتا ھے . 

یاد رھے لیمفیٹک سسٹم اور مائیکرو بلڈ سرکولیٹنگ سسٹم ھمارے جسم اور خصوصا نظام خون کے لیے فلٹریشن کی بمنزلہ ھے  . وریدوں اور شریانوں کے بلڈ میں جو سلز ڈیڈ ھو جاتے ھے یا بیکٹیریاز کی وجہ سے ٹاکسنز یا  فاسد مادے  وغیرہ بن جاتے   ھیں یہ  اس کو فلٹر کر دیتا ھے اور کپیلریز اور بلڈ ویسلز ( شعیرات الدم ),میں جمع کر دیتا ھے ، ..


 .

*فصد/ بلڈ ڈونیشن* : 

میں جسم سے رڈ بلڈ سلز بالکل صحیح سالم حالت میں نکلتے ھے . یعنی نارمل حالت میں نکلتے ھے اور ظاھر ھے اسی پر ھماری زندگی کا انحصار ھے . 


*دم الحجامہ* :


حجامه سے بیکٹیریا کی وجه سے جو اگزو ٹاکسنز  بن چکے ھوتے ھے اس کی وجه سے جو رڈ بلڈ سلز ڈیڈ ھو چکے ھوتے ھے. ( جوکه ایلوپیتھک نظریے کے مطابق  مرض کے باعث بنتے ھے.. اور اسی سے ھماره ریسپیررٹی سسٹم , ڈائجسٹیو سسٹم اور بسا اوقات نروز سسٹم متاثر ھوتے ھے )  نکلتے ھے  .


*فصد/بلڈ ڈونیشن*: 

سے 100 % وائٹ بلڈ سلز جسم نکلتے ھے . جس سے ھماری ایمیون سسٹم کمزور پڑھ جاتا ھے 


" *حجامہ کا بلڈ* :

سے لیباٹری ٹسٹ کے مطابق 15 % وائٹ بلڈ سلز نکلتے ھے وه بھی اینڈو ٹاکسنز کی صورت میں . 

*نوٹ*

جب ھمارے جسم میں بیکٹریا یا اگزو ٹاکسنز کو  کو کسی ادویه یا ویکسین کے ذریعے مارا جاتا ھے تو یھی مرا ھوا بیکٹیریا یا اگزو ٹاکسن اینڈو ٹاکسنز کی شکل اختیار کر لیتاھے . اور یھی اینڈو ٹاکسنز وائٹ بلڈ سلز پر اٹیک کر کے اسے توڑ مروڑ دیتا ھے . 

اسی وجہ سے ایمیون سسٹم نھایت کمزور ھو جاتا ھے ) 

 حجامہ میں یھی اینڈو ٹاکسنز بھی نکل جاتے ھے جس سے ھماره ایمیون سسٹم ( قوت مدافعت)  اور مضبوط ھو جاتا ھے. 


*فصد / بلڈ ڈونیشن*

سے خون میں جو آئرن کا مقدار ھوتا وه 100 % نکل جاتا ھے . 

جبکه 

 

*حجامہ کا بلڈ*

سے آئرن کا مقدار 0% نکلتا ھے 

اسی وجه سے حجامہ کرنے  سے  فاسد مواد نکل کر خون میں موجود آئرن کا مقدار مزید بڑھ جاتا ھے اور یھی وجه ھے  خون میں ھیموگلوبین کی مقدار بھی  بڑھ جاتی ھے 


*نوٹ*


100% سے مراد یہ ہے کہ اگر ایک قطرہ نکلا ہے تو اس ایک قطرے میں جتنے آئرن(آر بی سی ), ہوتا ہے وہ سب کا سب نکل جاتا ہے۔ اور حجامہ میں ایک قطرے میں آئرن بالکل کم مقدار نہ ہونے کے برابر نکلتا ہے کیونکہ اس میں نکلنے والا مادہ ڈیڈ سیلز ہوتے ہیں، جسم کا سو فیصدی مراد نہیں بلکہ خون کی نسب تناسب کے اعتبار سے بتانا مقصود هے۔

حجامہ کے حوالے سے کچھ سوالات اور ان کے جواب شہزاد شفیق حجامہ سینئر

 حجامہ کے حوالے سے کچھ سوال


سوال: حجامہ کے ایک سیشن میں کتنے کپس لگتے ہیں ؟؟

کیا حجامہ کے کپس کی تعداد کتنی ہوگی اسکا تعین لگوانے والے نے خود کرنا ہوتا ہے یا آپ اسکو اسکا مسئلہ جس کیلئے حجامہ لگوا رہا اس کے مطابق ایڈوائس کرتے ہیں۔۔

کیا موٹاپا یا پیٹ بڑھنے کا بھی حجامہ ہوتا ہے ؟؟ 

کیا حجامہ کا ایک سیشن ہی کافی ہوتا ہے ۔۔

آپ سے ان سوالوں کے جوابات لازمی چاہییں برادر محترم۔


جواب: 

محترم! ایک سیشن میں آدمی کا  جسمانی معائنہ کرنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتاہے۔

بیماری کے حساب سے کپ لگتےہیں۔

مثلاً عرق النساء میں 13 (کم بھی ہو سکتےہیں زیادہ بھی)

کولیسٹرول کےلیے 4.

معدے کےلیے 5۔

ایک صحت مند بندہ جو صرف سنت زندہ کرنےکی نیت سے حجامہ لگوا رہاہے۔ اُس کی جسمانی کیفیت کو مدنظر رکھ کر 5.6 کپ لگیں گے۔

کچھ مریض ایسے ہوتےہیں جنہیں جسم کے کسی خاص مقام پہ درد ہوتی ہے تو اُن کی تعین کی گئی جگہ پہ کپس لگتےہیں۔

لیکن بلڈپریشر، شوگر، جگر کے امراض، بواسير ان میں مریض کی رائے نہیں لی جاتی بس اتنا بتایا جاتاہے کہ ان ان مقام پر حجامہ لگوانےسے بہتری آئے گی۔ اگر وہ افورڈ کرسکیں تو وہاں کپس لگا دیےجاتےہیں۔

موٹاپے کےلیے بھی حجامہ میں بہت اچھے رزلٹ ملتےہیں۔

ایک سیشن میں صرف سنت ادا ہو جائے گی لیکن بیماری کےلیے دوبارہ سیشن ضروری ہے


سوال: 

 کیا حجامہ کے کسی قسم کی سائیڈ ایفیکٹس ہوتے ہیں ؟؟؟ 


جواب : 

حجامہ لگوانے کے کوئی سائیڈایفیکٹ نہیں باشرط کہ حجامہ 

حجامہ صرف سرٹیفیکیٹ 

معالج سے ہی کروائیں 

0321 2773576 

 0312 2001310 

03317863313 


Monday, 3 October 2022

صحت اور تندرستی کے لیے سفوف


     سفوف اکسیر البدن 


ثعلب مصری       50 گرام 

موصلی سفید     50 گرام

ستاور۔               50 گرام

سنگھاڑا خشک    50 گرام

بہمن سرخ۔         50 گرام

بہمن سفید۔        50 گرام

مغز بادام۔          50 گرام

مغز اخروٹ۔       50 گرام 

تودری سفید۔      50 گرام

مغز پنبہ دانہ۔     50 گرام 

سفید تل۔          50 گرام

مٹر دانہ۔           50 گرام 

مصری۔             50 گرام 


تمام ادویات کو باریک سفوف بنا کر کپڑا چھان لیں


مقدار خوراک ؛ 

                       صبح وشام کھانے سے پہلے یا کھانے کے دو گھنٹے بعد چھوٹی چمچ ہمراہ دودھ کے ساتھ استعمال کریں

شہزاد شفیق حجامہ سینئر

0312 2001310 0321 2773576 

Saturday, 1 October 2022

لیکوریا اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کا علاج

 لیکوریا اور اس سے پیدا ہونے والے صحت کے مسائل

لیکوریا خواتین میں پائی جانے والی ایسی بیماری ہے جوانھیں دیمک کی طرح اندرسے چاٹ جاتی ہے۔لیکوریا خواتین کے تولیدی نظام میں ایک یاایک سے زائد اعضاء کومتاثرکرسکتاہے۔جسم میں ٹاکسن کاجمع ہوناغیرمعمولی نہیں اس کاسبب ناقص،غیرمتوازن غذااورنامناسب طرز زندگی ہے۔لیکوریاجیسی بیماری پرخواتین کوفوری طبی توجہ دینی چاہئے بصورت دیگربیماریوں اورانفیکشن کے خطرات میں اضافہ ہوجاتاہے۔

لیکوریا کیا ہے اوراسکی وجوہات کیا ہیں یہ تو خواتین کی بڑی تعداد جانتی ہیں لیکن اس سے صحت پرہونے والےنقصانات کاتذکرہ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ اگرکوئی اس بیماری کی علامات میں مبتلاہے تو بغیرکوتاہی برتے وہ اپنابروقت علاج کروائیں اور اس بیماری سے نبرد آذما ہوسکے۔

۱۔پیروں میں درد

جب کسی لکڑی میں دیمک لگ جائے تو وہ کمزورہوجاتی ہے۔ اسی طر ح اگرکسی عورت کولیکوریاکی شکایت ہوجائے تو وہ بھی اندرونی طورپرکمزورہوجاتی ہے جس کے باعث اس کی ہڈیاں متاثرہوتی ہیں اوراس کے نتیجے میں پیراورگھٹنے درد کرنے لگتے ہیں اور یہ درد اکثر شدید ہوجاتا ہے۔

۲۔آنکھوں کے نیچے ہلکے

آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑناکوئی عام بات نہیں اگرتو آپ نیند پوری نہیں لیتی تو یہ اس کانتیجہ بھی ہوسکتاہے لیکن اس کی ایک اہم وجہ لیکوریابھی ہے۔جسمانی کمزوری مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے جن میں سے ایک آ نکھوں کے نیچے حلقے پڑنابھی ہیں۔

۳۔تھکاوٹ اورچڑچڑاپن

خواتین کی اکثریت مسلسل تھکاوٹ اورچڑچڑے پن کاشکاررہتی ہے۔بے شک اسکی وجہ گھریلومسائل اورمصروفیت بھی ہوسکتی ہیں لیکن اس میں لیکوریاجیسی بیماری بھی پوشیدہ ہے۔جسم کے اندرونی معاملات ظاہرہونے کی مختلف علامات ہوتی ہیںا ن میں سے ایک یہ ہے۔

۴۔جسمانی کمزوری

یہ بیماری عورت کواندرسے کھوکھلاکردیتی ہے اسی لئے وہ انتہائی جسمانی کمزوری کاشکارہوجاتی ہے۔وزن میںنمایاںکمی ہوجاتی ہے اوراگربعض اوقات وزن کم نہ بھی ہوتو وہ جسمانی طاقت سے محروم ہوجاتی ہےاور ان کی مدافعتی نظام کمزور ہوجاتا ہے۔

۵۔سراورکمردرد

اگرعمارت کمزورہوجائے تو بلڈنگ کھڑی نہیں رہ سکتی آہستہ آہستہ اس عمارت کے حصے اپنی جگہ چھوڑنے لگتے ہیں۔بالکل اسی طرح لیکوریاکے باعث کمر اورسرمیں درد کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔یہ بیماری آپ کی بنیادوں کوکھوکھلاکردیتی ہے۔

۶۔جینیٹل پرابلم

لیکوریا کوئی عام بیماری نہیں بلکہ خاص توجہ طلب مسئلہ ہے۔یہ بیماری مختلف جینیٹل مسائل پیداکرسکتی ہے۔یہ ڈسچارج ایسٹ اوربیکٹیریل انفیکشن کے سبب اورا س میں اضافہ کاباعث بھی بنتاہے۔اس کے سبب خارش،سوجن،جلن اورزخم جیسے مسائل ہوسکتے ہیں۔

۷۔جسمانی اعضاء کی ناقص کارکردگی

جب جسم میں ٹاکسن جمع ہوجاتے ہیں اور جسمانی اعضاء جیسے گردے ،آنتیں اورجلد جسم سے ان ٹاکسن کونکالنے میں ناکام ہوتے ہیں تو نتیجتاّ جسم ان ٹاکسن کواندام نہانی سے ڈسچارج کی شکل میں خارج کرنے کی کوشش کرتاہے۔

۸۔صحت وصفائی کے مسائل

لیکوریا کے سبب نہ صرف آپ کی صحت بلکہ صفائی کاحصول بھی ناممکن ہوجاتاہے۔پاکیزگی کااحساس نہ ہوناذہنی ٹینشن کاسبب بنتاہے۔اگرآپ کسی بھی ایسے مسئلے کاشکارہیں توابتداء میں ہی اس کاعلاج کریں تاکہ خوشگواراور صحت مند زندگی پاسکیں۔

حکیم شہزاد شفیق حجامہ سینئر زم زما ڈیفنس کراچی پاکستان 0312 2001310 0321 2773576